اسلام قبول کرنے پر باپ کے ہاتھوں ستم ب ہوا

گزشتہ ماہ اسرائیل میں ایک بچی کو اسکے والد نے اپنے ہی گھر میں شہد کردیا۔ قصہ کچھ اسطرح ہے کہ 17 سالہ ہنریت کرا مقبوضہ فلسطین کے شہر رملہ کے ایک راسخ العقیدہ مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئی۔ چونکہ شہر میں کوئی معیاری مسیحی اسکول موجود نہ تھا لہٰذا اسے ایک یہودی مشنری اسکول میں داخل کردیا گیا۔جہاں عام مضامین کے ساتھ توریت بھی پڑھائی جاتی ہے۔توریت پڑھ کر ہنریت کا دل توحید کی طرف مائل ہوگیا۔ اسی دوران اسکی جان پہچان ایک فلسطینی لڑکے سے ہوئی جسکے اخلاق سے ہنریت بہت متاثر ہوگئی۔ اس لڑکے نے

لڑکے نے ہنریت کا تعارف اپنی والدہ اور بہنوں سے کروادیا۔ لڑکے کی ماں کو ہنریت بہت پسند آئی اور گھر میں آنا جانا ہوگیا۔ خاتون نے ہنریت کو قرآن کاایک نسخہ تحفے میں دیدیا۔ ہنریت کافی دنوں سے ہدائت کی تلاش میں تھی چنانچہ قرآن پڑھ کر ہنریت مسلمان ہوگئی۔ ادھر اس عورت کو اپنے بیٹے کیلئے چاند سی دلہن کی تلاش تھی چنانچہ انھوں نے ہنریت کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ بدقسمتی سے وہ فلسطینی لڑکا گرفتار ہوگیا لیکن ہنریت نے کہا کہ وہ اپنے منگیتر کا انتظار کریگی۔ یہ نوجوان محض شبہے کی بنا پر گرفتار ہوا تھا اسلئےخیال تھا کہ وہ دو ایک ماہ میں رہا ہوجائگا۔ جی ہاں غلطی سے گرفتار ہونیوالا فلسطینی بھی دوتین ماہ بعد ہی رہا ہوتا ہے۔

اس دوران ہنریت کے والدین کو اپنی بیٹی کے مسلمان ہونے کا پتہ چل گیا۔باپ اس جسارت پر سخت مشتعل تھا۔ گھر والوں نے ہنریت کو بہلایا اور پھسلایا۔ اسکی والدہ نے بیٹی سے کہا کہ عقیدہ و ایمان تو دل کا راز ہے تم اپنے باپ سے کہدو کہ اب تم اسلام سے تائب ہوگئی ہو۔ہنریت کواسکی ہونے والی ساس نے بھی سمجھایا کہ جان بچانے کیلئے ایساکرنا اسلام میں جائز ہے لیکن ہنریت کے دل میں ایمان ایسا بس گیا تھا کہ وہ مصلحتاً بھی انکار نہ کرسکی۔ ماں نے گھر سے بھاگنے میں بیٹی کی مدد کی اور وہ اپنی ہونے والی ساس کے گھر آگئی۔

یہ گھر پہلے ہی اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے زیرنگرانی تھا چنانچہ وہ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی۔ اسکا باپ قریبی رشتے داروں کے ساتھ وہاں آیا اور پولیس کی موجودگی میں اس نے ہنریت کو یقین دلایا کہ اگر وہ گھر واپس آجائے تو اسےکچھ نہیں کہا جائیگا اور اسکے اسلام پر بھی خاندان کو کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ وہ گھر واپس آگئی۔ دوسرے دن اسکا باپ سمیع کرار چھرا لے کر آیا اور ہنریت کو آخری موقع دیا کہ وہ اسلام سے تائب ہوجائے۔لیکن ہنریت نے جواب میں اپنے والد کو اسلام کی دعوت دے ٖڈالی۔ یہ سن کر وہ آپے سے باہر ہوگیا

بیٹی کو بالوں سے کھینچتا کچن میں لے گیا اور زمین پر گراکر اس معصوم کو ذبح کردیا۔ یہ پڑھ کر ہمیں حضرت سمیہ (ر) کا واقعہ یاد آیا جو ابوجہل کی کنیر تھیں اورشائد ایسی ہی کم عمر۔ انکے اسلام لانے پر پہلے تو ابوجہل نے جناب سیدہ کو دھمکایا، مارا پیٹا لیکن اس سے کام نہ چلا وہ نشان عبرت بنانے کیلئے انھیں گھسیٹتا ہواباہر لاىا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نےایک نیزہ حضرت سیدہ کے سینے میں کھونپ دیا۔لوگوں کیلئے حیرانی کی بات یہ تھی کہ نیزہ لگنے پر چیخنے کے بجائے جناب سمیہ نے اپنے کپڑوں کو مضبوطی سے تھام لیا کہ اللہ کی اس بندی کو مرتے ہوئے بھی ستر کا بڑا خیال تھا۔ اور زمین پر گرتے ہوئےابوجہل کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بولیں “رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگئی” نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *